پیار کی صورت

ہر سمت ابھرتی ہے ترے پیار کی صورت
دل میں ہی سجی رہتی ہے دیدار کی صورت

احساس کی گرمی ہو تو لفظوں میں اتر کر
ڈھل جاتی ہے خود فکر بھی اشعار کی صورت

ویران سی راتوں میں ترے ذکر کا جگنو
چمکا ہے مرے سامنے انوار کی صورت

ہم نے تو ہر اک چہرے میں ڈھونڈا ہے تجھی کو
ملتی ہے کہیں دوست کہیں یار کی صورت

خاموش تمناؤں نے سمجھایا یہ دل کو
کھلتی نہیں ہر بات اظہار کی صورت

اس خاک کے پردے میں ہیں اسرار نہاں سب
ابھرتے ہیں یہ نقش بھی گلزار کی صورت

دل ہاتھ پہ رکھ کر میں کھڑا ہوں سرِ بازار
دیکھوں تو کوئی آئے خریدار کی صورت

آنکھوں میں بسی رہتی ہے اک نور کی دنیا
بھاتی نہیں اب کوئی بھی کردار کی صورت

تَنزیلؔ یہ فن تیرا گواہی بھی یہی دے
رکھتا ہے سخن اپنا ہی معیار کی صورت

                  _Tanzeel Ahmad