پیار کی صورت
ہر سمت ابھرتی ہے ترے پیار کی صورت احساس کی گرمی ہو تو لفظوں میں اتر کر ویران سی راتوں میں ترے ذکر کا جگنو ہم نے تو ہر اک چہرے میں ڈھونڈا ہے تجھی کو خاموش تمناؤں نے سمجھایا یہ دل کو اس خاک کے پردے میں ہیں اسرار نہاں سب دل ہاتھ پہ رکھ کر میں کھڑا ہوں سرِ بازار آنکھوں میں بسی رہتی ہے اک نور کی دنیا تَنزیلؔ یہ فن تیرا گواہی بھی یہی دے _Tanzeel Ahmad |
